15 جون 2009 - 19:30

پاکستان میں امن و امان اور دہشت گردی کے سلسلے میں مفصل خبریں.

فوج کاحکیم محسود کے آبائی علاقے پر کنٹرول

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر اطہر عباس نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔قمر الزماں کائرہ نے کہا کہ حکیم اللہ محسود اور قاری حسین کے علاقے کوٹ کوئی پر پاک فوج نے کنٹرول حاصل کرکے علاقے سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے؛ آپریشن راہ نجات کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے،عسکریت پسندوں کے اقدامات سے قوم خوف زدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے گھبراہٹ میں پبلک مقامات کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔

قبل ا‌‌زیں عسکری ذرائع نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن راہِ نجات کے دوران  شدید لڑائی کے بعد کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے گاٶں کوٹکئی پر قبضہ کرلیاہے.آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹرز،جیٹ طیارے اور زمینی دستے حصہ لے رہے ہیں۔

آئی ایس پی آرکے فراہم کردہ اعدادوشمارکے مطابق گذشتہ ایک ہفتے سے جاری کارروائی میں ہلاک ہونے والے جنگجوٶں کی تعدادڈیڑھ سوسے زیادہ ہوگئی ہے اوران کے متعدد ٹھکانے تباہ کردیئے گئے ہیں ۔بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز کو شدت پسندوں کی طرف سے مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔

کوٹکئی پر قبضے کے بعد اب فورسز کے لئے جنگجوٶں کے ایک اور مضبوط گڑھ سراروغہ کی جانب پیش قدمی آسان ہوگا.جنوبی وزیرستان میں اس وقت اٹھائیس ہزارفوجی قریباً دس ہزار طالبان جنگجوٶں کے خلاف 'آپریشن راہ نجات' میں حصہ لے رہے ہیں جن میں ایک ہزارسخت گیر ازبک جنگجو بھی ہیں.ان میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے بعض عرب جنگجو بھی شامل ہیں.

قبل ازین وفاقی پولیس نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف بارہ سے انتہائی مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد کا نام کمانڈر قیصر عرف معاویہ ہے اور اس کا تعلق کالعدم مذہبی تنظیم سے ہے۔

ادھر طالبان نے میڈیا کو دھمکی دی ہے کہ وہ انکا موقف بھی پیش کرے ورنہ وہ اسے بھی نشانہ بنائینگے جبکہ طالبان نے شمالی وزیرستان میں غیر مقامی صحافیوں کا داخلہ بند کردیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے فیصلوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھے ورنہ صحافیوں کا تمام سامان ضبط کرکے انہیں سزا کا مستحق قرار دیا جائیگا۔

گزشتہ روز جمعہ کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گا۔ پوری قوم ان منفی قوتوں کے خلاف متحد ہے جو معاشرے کو دہشت زدہ کرکے اپنے مطالبات تسلیم کرانا چاہتی ہیں۔  ان حملوں کی شدت کے باوجود ہمارے پاس ناکامی کاکوئی آپشن نہیں ہے۔ وزیراعظم نے قوم کو یقین دلایا کہ حکومت دہشت گردوں کو ان کی بزدلانہ کارروائیوں میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ حکومت نے معاشرے سے عدم برداشت اور عسکریت پسندی کو جڑسے ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ اور وہ تمام لوگ جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

وزیراعظم نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں اور کسی بھی صورت میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کرپیش نہ کریں اور ایسے واقعات کی لائیو کوریج سے گریز کیا جائےکیونکہ اس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلتا ہے اور دہشت گردوں کے منفی عزائم اور مقاصد کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔

دریں اثناء کل ایروناٹیکل کمپلیکس کے قریب فضائیہ کی چوکی پر خودکش حملے میں خودکش حملہ، 9 افراد جان بحق ہوگئےتھے

کامرہ میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کی چیک پوسٹ پر خودکش حملے کے نتیجے میں 2 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق اور 17 شدید زخمی ہو گئے جبکہ پشاور میں کار بم دھماکے میں 15 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ خودکش دھماکا صبح پونے سات بجے کے قریب قطبہ چوک سے تھوڑے فاصلے پر قائم کامرہ چیک پوسٹ پر ہوا، جہاں سکیورٹی کے عملے نے یونیفارم میں مشتبہ شخص کو پیدل چلتے ہوئے چیک پوسٹ کی جانب آنے پر شناخت طلب کی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں چیک پوسٹ پر تعینات کامرہ کے ملازمین اور ڈیوٹی پرجانے والے 9 افراد جاں بحق اور 17 شدید زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 2 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، دھماکے کے بعد انسانی اعضا دور دور تک بکھر گئے۔

پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ خود کش حملہ آور کامرہ کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش میں تھا لیکن چوکی پر تعینات اہلکاروں نے حملہ آور کو روکا تو اس نے وہیں دھماکا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آور پیدل آیا اور پہلی ہی چوکی پر اس کی شناخت ہو گئی اور وہ آگے نہیں جا سکا۔

ادھر پشاور میں جمعہ کے روز باغ ناران روڈ پر ایک ریسٹورنٹ کے قریب کار بم دھماکا ہوا، جس سے حیات آباد پشاور اورقریبی علاقوں میں سخت خوف وہراس پھیل گیا۔ دھماکا سے 15 افراد زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق لمبے بالوں والا ایک 30سالہ نوجوان کارمیں آیا، جس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں اور وہ کالے کپڑے پہنے ہوئے تھا جبکہ وہ انگور کھارہاتھا، اس نے گاڑی ریسٹورنٹ کے سامنے پارک کی اورخود دوسری طرف چلا گیا اور اس دوران دھماکا ہو گیا۔ پولیس نے راستے بند کر کے سرچ آپریشن کے دوران دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ دھماکے کے لئے ہنڈا اٹلس موٹر کار استعمال کی گئی تھی۔ موٹر کار میں 70 کلو گرام دھماکا خیز مادہ رکھا گیا تھا جس میں آرٹلری شیلز اور راکٹ شیلز بھی شامل کئے گئے تھے۔

سوات:جھڑپ میں اہم کمانڈرکریم زادہ مارا گیا 

سوات میں سیکیوریٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ایک اہم شدت پسند کمانڈر کریم زادہ عرف کمانڈر مارا گیا۔ ذرائع کے مطابق سوات کی تحصیل مٹہ کے علاقے برتھانہ میں گزشتہ شب سیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی۔ کارروائی میں ایک اہم شدت پسند کمانڈر کریم زادہ عرف کمانڈر ہلاک ہوگیا۔ دوسری جانب ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں سیکیوریٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے۔ جس میں متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

میرپورخاص ، ڈگری سے 27 غیرملکی گرفتار 

میرپورخاص کے علاقے ڈگری میں پولیس نے 27 غیرملکیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق ازبکستان سے ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد مزدور ہیں جو مقامی ٹھیکیدار کے پاس کا م کررہے تھے۔ 

پولیس کا سرچ آپریشن،راولپنڈی میں45مشتبہ افراد زیر حراست 

راول پنڈی کے مخلتف علاقوں میں پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے،اور اب تک 45 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق سرچ آپریشن راولپنڈی کے علاقے ناظم آباد ،ہولی فیملی، کرشن کالونی، ڈبل روڑ، نیو کٹاریاں سمیت دیگر کئی علاقوں میں جاری ہے۔سرچ آپریشن کی نگرانی ایس ایس پی آپریشنز یاسین فاروق اور ایس پی سلطان محمود کر رہے ہیں۔ 

مردان:تخت بھائی میں اغواء کاروں کی فائرنگ سے ایس ایچ او جاں بحق 

ضلع مردان کی تحصیل تخت بھائی کے علاقے خرکی پولیس نے اغوا کار گروپ کی گرفتاری کے لئے ایک مکان پر چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی اغواکاروں نے فائر کھول دیا جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ شروع کی ۔۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایڈیشنل ایس ایچ او گل عمران جاں بحق ہو گیا جبکہ پولیس کی فائرنگ سے خطرناک اشتہاری نوید بھی مارا گیا پولیس اور اغواکار گروپ کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ 

مہمند ایجنسی:سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں19شدت پسند ہلاک 

خیبر اور مہمند ایجنسیوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔خیبر ایجنسی کے علاقے گرگری (